سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے کہا،ترکی خطے میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے
ریاض20جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیرنے ایک انٹرویومیں کہاہے کہ ترکی خطے میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ بغاوت کی ناکام سازش کے بعدانقرہ موجودہ بحران سے جلد نکل آئے گا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اورخلیج تعاون کونسل کے ممبرممالک کے درمیان تاریخی اسٹریٹیجک تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے سے خلیج تعاون کونسل اوریورپی ملکوں کے درمیان تعلقات متاثرنہیں ہوں گے کیونکہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدہ ان کااندرونی معاملہ ہے۔شام کے تنازع پربات کرتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ ہم شام میں ایسا نظام حکومت لاناچاہتے ہیں جس میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہ ہو۔ ایک ایسا پرامن حل جو شام کے موجودہ بحران کو جلد سے جلد ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ داعش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جنگ جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پہلا ملک ہے جس نے داعش کیخلاف عالمی سطح کے اتحاد کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔عادل الجبیر نے مزید کہا کہ شام کے تنازع کے حل کے حوالے سے امریکا اور سعودی عرب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ کچھ تکنیکی نوعیت کے اختلافات ہیں جنہیں آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے۔ شام میں اسد رجیم ہی مذاکرات کی ناکامی کی اصل ذمہ دار ہے۔ شامی حکومت نے تنازع کے پرامن حل کی راہ روک کر شام قوم پر فوجی حل مسلط کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ایران کی مداخلت کے باعث عراق بدترین فرقہ واررانہ کشیدگی اور اقتصادی بدحالی کا شکار ہے۔ سنہ 2014ء میں عراقی حکومت نے جن اصلاحات کااعلان کیا تھا وہ عراق کو متحد رکھنے کی ضامن ہیں۔ عراق میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عالمی برادری اورمقامی حکومت کے درمیان ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی عراق کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ بالخصوص داعش کا مضبوط گڑھ عراق میں موجود ہے۔ ہم جہاں خطے کو داعش سے پاک کرنا چاہتے ہیں وہیں ہم شام میں بشارالاسد کے ناسور کو بھی ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔یمن کے بحران کے حل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ یمن کے بحران کا مناسب اور مثالی حل متحارب فریقین کا باہم بات چیت کے ذریعے کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ عرب خطے میں فرقہ واریت آیت اللہ خمینی کے ایران میں برسراقتدار آنے سے پھیلنا شروع ہوئی۔ ایران نے عرب ممالک میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے بیج بونے کے لیے حزب اللہ قائم کی اور اس کی مسلسل پرورش کرتا رہا۔سعودی وزیرخارجہ کاکہناتھاکہ سنہ1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد سعودی عرب نے ایک بار بھی تہران کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیالیکن ایران کی جانب سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ تمام خلیجی ریاستوں پر چڑھائی کرنے کی مذموم کوششیں کی جاتی رہیں۔ ایران نے عرب ممالک کے خلاف معاندانہ روش اپنائے رکھی۔ ایران پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے تواسے اپنی پالیسیاں بدلناہوں گی۔عادل الجبیرکاکہناتھاکہ ایران میں حسن روحانی کے صدر بننے سے بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی۔